حوزہ نیوز ایجنسی| ظہورِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور اہدافِ الٰہی کے تحقق میں مرد اور عورت دونوں شریک ہیں۔ قرآنِ کریم نے ایسے کئی عمومی فرائض بیان کیے ہیں جو سب مؤمنین کے لیے یکساں ہیں، جیسے تقوائے الٰہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، پاکدامنی اور عفت۔ البتہ اس حقیقت سے غفلت نہیں برتنی چاہیے کہ اسلامی معاشرے کی تعمیر اور اہدافِ الٰہی کے حصول میں خواتین کا ایک خاص اور بے مثال کردار بھی ہے۔
گزشتہ قسط میں ہم نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ مرد اور عورت دونوں اللہ تعالیٰ کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں شریک ہیں۔ اس راہ میں تقویٰ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور پاکدامنی جیسے فرائض سب کے لیے مشترک ہیں۔ البتہ خواتین کے لیے عفت، حیا اور حجاب کی پابندی پاکدامنی کے نمایاں مصادیق میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن ان تمام مشترک ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا ایک ایسا خصوصی کردار بھی ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔
شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں خواتین کی سب سے اہم اور خصوصی ذمہ داری، جو ظہورِ منجیِ عالمِ بشریت کی راہ ہموار کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، وہ اولاد کی تربیت یا دوسرے لفظوں میں منتظر سازی ہے۔
منتظر امام اور ماں کا کردار
اگرچہ والد اور والدہ دونوں بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ماں کا کردار اپنی نوعیت میں منفرد اور بے مثال ہے۔ اگر ماں اپنی ذمہ داری صحیح انداز میں ادا نہ کرے تو بچے کی شخصیت اس طرح پروان نہیں چڑھ سکتی جس طرح ایک الٰہی مقصد کے لیے درکار ہوتی ہے۔
امام خمینیؒ خواتین کے تربیتی مقام کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«"عورت ایک انسان ہے، بلکہ ایک عظیم انسان ہے۔ عورت معاشرے کی مربی ہے۔ انسان عورت کی آغوش میں پرورش پاتا ہے۔ انسانوں کی تربیت کرنے والی عورت ہے۔ قوموں کی خوش بختی اور بدبختی عورت کے وجود سے وابستہ ہے۔ عورت اگر صحیح تربیت کرے تو صالح انسان تیار کرتی ہے اور صحیح تربیت کے ذریعے ملک کو آباد کرتی ہے۔"»(صحیفه امام، ج ٧، ص ٢٣۹)
اسی حقیقت کی جڑ شاید امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان میں ملتی ہے:
««اَلْوَلَدُ مَطْبُوعٌ عَلَی حُبِّ أُمِّهِ»»(غررالحکم و دُررالکلم، جلد ۱، صفحه ۱۰۰)
"بچہ اپنی ماں کی محبت پر پروان چڑھتا ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے ماں اور اولاد کے درمیان جو محبت رکھی ہے، اس کی مثال کسی دوسرے رشتے میں نہیں ملتی۔ یہی محبت ماں کے ہاتھ میں ایک مؤثر تربیتی وسیلہ بن جاتی ہے۔ ماں اپنی شفقت، محبت اور توجہ کے ذریعے بچے کے دل کو دینی اور معنوی اقدار قبول کرنے کے لیے آمادہ کر سکتی ہے اور اسے اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ ظہورِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تیاری اور حکومتِ الٰہی کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
اس بنا پر خواہ عمومی ذمہ داریوں کے اعتبار سے دیکھا جائے یا خواتین کے خصوصی کردار کے لحاظ سے، ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کی زمین ہموار کرنے اور حکومتِ مہدوی کے قیام میں عورت کے کردار کو نہ کم سمجھا جا سکتا ہے اور نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
جو کچھ بیان کیا گیا، وہ ظہور اور حکومتِ مہدوی میں خواتین کے مقام اور کردار سے متعلق اہم مباحث کا خلاصہ تھا۔ البتہ اس موضوع کے بعض ضمنی پہلو ابھی باقی ہیں، مثلاً یہ کہ آیا امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے 313 خاص اصحاب میں خواتین بھی شامل ہوں گی یا نہیں، نیز زمانۂ ظہور میں خواتین کی رجعت کا مسئلہ کیا ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ قسط میں ان موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔
جاری ہے...









آپ کا تبصرہ